کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: لعنت کرنے کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اس حکم کا امر کیا گیا
حدیث نمبر: 5742
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَطْلُبُ الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ ، وَكَانَ النَّاضِحُ يَعْتَقِبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ ، وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ ، فَدَنَا عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ ، فَأَنَاخَهُ فَرَكِبَهُ ، ثُمَّ بَعَثَهُ ، فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ ، فَقَالَ : شَأْ ! لَعَنَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا اللاعِنُ بَعِيرَهُ ؟ " قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " انْزِلْ عَنْهُ ، فَلا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ ، لا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، وَلا تَدْعُوا عَلَى أَوْلادِكُمْ ، وَلا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ ، لا تُوَافِقُوا مِنَ السَّاعَةِ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے ہمارا یہ حال تھا کہ ہم پانچ یا چھ یا سات افراد ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جن کا نام عقبہ تھا وہ اپنے اونٹ کے پاس آئے انہوں نے اسے بٹھایا تاکہ اس پر سوار ہوں پھر انہوں نے اسے کھڑا کیا تو اس اونٹ نے کچھ شوخی دکھائی تو ان صاحب نے کہا: اٹھو اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا شخص کون ہے۔ ان صاحب نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے نیچے اتر جاؤ تم ہمارے ساتھ کسی لعنت یافتہ کو نہ رکھو تم لوگ اپنے خلاف بددعا نہ کیا کرو اپنے اموال کے خلاف بددعا نہ کیا کرو کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ کسی ایسی گھڑی میں ہو جائے جس میں وہ تمہارے لیے مستجاب ہو جائے۔