کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ابن عجلان کی خبر منقطع ہے اور اس نے اعرج سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 5722
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْفَارِسِيُّ بِدَارَا مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ ، وَفِي كُلٍّ الْخَيْرُ ، فَاحْرِصْ عَلَى مَا تَنْتَفِعُ بِهِ ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلا تَعْجِزْ ، فَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلا تَقُلْ : لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ! وَلَكِنْ : قُلْ : قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ ، فَإِنَّ اللَّوَّ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَجْلانَ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الأَعْرَجِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، فَمَرَّةً كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ الأَعْرَجِ مُفْرَدًا ، وَتَارَةً يَرْوِيهِ عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ مُفْرَدًا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” طاقت ور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے ویسے دونوں ہی بھلائی پر ہوتے ہیں تم اس چیز کا لالچ کرو جس کے ذریعے تم نفع حاصل کرو اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرو اور تم عاجز نہ آ جاؤ اگر تمہیں کوئی نقصان لاحق ہو تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے اس اس طرح کر دیا ہوتا (تو یوں ہو جاتا) بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر (کے مطابق تھا) جو اس نے چاہا ویسا ہی کیا کیونکہ لفظ ” اگر “ شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے ابن عجلان نے یہ روایت اعرج سے سنی ہو اور انہوں نے یہ روایت محمد بن یحییٰ کے حوالے سے اعرج سے سنی ہو تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت کے حوالے سے نقل کر دی اور ایک مرتبہ یہ روایت ایک شخص کے حوالے سے نقل کر دی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے ابن عجلان نے یہ روایت اعرج سے سنی ہو اور انہوں نے یہ روایت محمد بن یحییٰ کے حوالے سے اعرج سے سنی ہو تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت کے حوالے سے نقل کر دی اور ایک مرتبہ یہ روایت ایک شخص کے حوالے سے نقل کر دی۔