کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ القاب سے طعنہ زنی کی اجازت نہیں ہے
حدیث نمبر: 5709
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ ، قَالَ : " كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا بِلَقَبِهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ سورة الحجرات آية 11 ، قَالَ : وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ وَيُعْطُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، حَتَّى أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ ، فَأَمْسَكُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة البقرة آية 195 " .
سیدنا ضحاک بن ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں ان لوگوں کے القاب ہوتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس کے لقب کے ساتھ بلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا یا رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم)! یہ شخص اسے ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو (کسی کے) ایمان لانے کے بعد اسے فاسق کہنا برا نام ہے۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: انصار کا یہ معمول تھا کہ جو اللہ کو منظور ہوتا وہ صدقہ کیا کرتے تھے اور عطیات دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ انہیں قحط سالی لاحق ہوئی تو انہوں نے ایسا کرنا ختم کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” اور تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف نہ لے جاؤ اور اچھائی کرو بیشک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “