کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر بیان کہ انسان کی زبان اس کے لیے سب سے زیادہ خوفناک چیز ہے
حدیث نمبر: 5699
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ : " قُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قَلتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : " فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْمَعْنَى فِي أَخْذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَانَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ : " هَذَا " وَقَدْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَقُولَ : اللِّسَانُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْخُذَ لِسَانَهُ ، أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَالِمًا بِالْعِلْمِ الَّذِي كَانَ يُعِلِّمُ النَّاسَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْبِقَ نَفْسَهُ إِلَى الْعَمَلِ بِالْعِلْمِ الَّذِي اسْتُعْلِمَ ، فَعَلِمَ بِأَنَّهُ أَخْبَرَ السَّائِلَ بِأَنَّ أَخْوَفَ مَا يَخَافُ عَلَيْهِ أَنْ يُورِدَ صَاحِبَهُ الْمَوَارِدَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْبِضَ عَلَيْهِ ، وَلا يُطْلِقَهُ ، فَعَمِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ يَعْلَمُهُ أَوَّلا حَتَّى يُفَصِّلَ مَوَاضِعَ الْعِلْمِ وَالتَّعْلِيمِ .
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ کہو میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر استقامت اختیار کرو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا اندیشہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور پھر ارشاد فرمایا: اس کا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی زبان پکڑنا اور یہ فرمانا: ” یہ ۔“ اس کا مطلب یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لفظ “” زبان “” ارشاد فرمانا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کے بارے میں علم تھا جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تعلیم دینی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم کے بارے میں عمل کرنے کے حوالے سے پہلے اپنی ذات سے آغاز کیا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کو یہ بات بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کے حوالے سے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے زبان والا شخص مشکل میں پھنس سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی زبان پر ق ابورکھے اسے کھلا نہ چھوڑے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کی تعلیم دینی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس پر خود عمل کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم اور تعلیم کے مقامات کو تفصیل سے بیان کر دیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی زبان پکڑنا اور یہ فرمانا: ” یہ ۔“ اس کا مطلب یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لفظ “” زبان “” ارشاد فرمانا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کے بارے میں علم تھا جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تعلیم دینی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم کے بارے میں عمل کرنے کے حوالے سے پہلے اپنی ذات سے آغاز کیا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کو یہ بات بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کے حوالے سے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے زبان والا شخص مشکل میں پھنس سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی زبان پر ق ابورکھے اسے کھلا نہ چھوڑے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کی تعلیم دینی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس پر خود عمل کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم اور تعلیم کے مقامات کو تفصیل سے بیان کر دیں۔