کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ناپسندیدہ بات سننے، بدگمانی، غصہ اور فحش گوئی کا بیان - ذکر خبر کہ انسان اون لازم ہے کہ وہ شدید غصے میں اس کام سے بچے جو اللہ جل وعلا کو ناپسند ہو
حدیث نمبر: 5691
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقُولُونَ فِي الصُّرَعَةِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : الَّذِي لا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : الصُّرَعَةُ الَّذِي يُمْسِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم پچھاڑ دینا کسے کہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یہ کہ آدمی دوسروں کو پچھاڑ دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھڑنا (یا طاقت) یہ ہے آدمی غصے کے وقت خود کو ق ابومیں رکھے۔