کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ناپسندیدہ بات سننے، بدگمانی، غصہ اور فحش گوئی کا بیان - ذکر وصف سزا جو اسے ملتی ہے جو لوگوں کی بات سنتا ہے جو وہ ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 5685
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا الرُّوحَ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ حُلْمًا كَاذِبًا ، كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَيُعَذَّبُ عَلَى ذَلِكَ ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص تصویر بنائے گا اسے یہ عذاب دیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے گا اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اسے یہ عذاب دیا جائے گا اور جو شخص چھپ کر کسی کی باتیں سنے گا جب کہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، تو قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5685
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (120 و 165). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5656»