کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تواضع، تکبر اور خود پسندی کا بیان - ذکر اس بات کہ متکبر اور مغرور کے لیے جہنم میں داخلہ واجب ہے اگر اللہ اس پر عفو نہ کرے
حدیث نمبر: 5679
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ، وَأَهْلُ النَّارِ كُلُّ مُسْتَكْبِرٍ جَوَّاظٍ " .
سیدنا حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” کیا میں اہل جنت کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ ہر کمزور اور غریب شخص (جنتی ہے) اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کر دے اور ہر متکبر اور سخت مزاج شخص جہنمی ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5679
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج مشكلة الفقر» (125): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5650»
حدیث نمبر: 5680
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ اثْنَانِ : أَحَدُهُمَا وَهُوَ الَّذِي نَوَّعْنَا لَهُ النَّوْعَ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ " : أَرَادَ بِهِ جَنَّةً عَالِيَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُتَكَبِّرِينَ ، وَقَوْلُهُ : " وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " : أَرَادَ بِهِ نَارًا سَافِلَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُسْلِمِينَ ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَصْلاً مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، أَرَادَ بِالْكِبْرِ : الشِّرْكَ ، إِذِ الْمُشْرِكُ لا يَدْخُلُ جَنَّةً مِنَ الْجِنَّانِ أَصْلاً ، وَقَوْلُهُ : " لا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلِ مِنْ إِيمَانٍ " : أَرَادَ بِهِ عَلَى سَبِيلِ الْخُلُودِ ، حَتَّى يَصِحَّ الْمَعْنَيَانِ مَعًا .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو گا ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو گا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں اس میں سے ایک وہ ہے جسے ہم نے ایک نوع میں بیان کیا ہے پھر جنت میں ایسا شخص داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے وزن کے جتنا تکبر ہو اس کے ذریعے جنت کا بلند درجہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو تکبر نہیں کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان موجود ہو اس کے ذریعے جہنم کا وہ نیچے والا حصہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو مسلمان نہیں ہوں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے: جنت میں سرے سے کوئی ایسا شخص داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو گا اور یہاں تکبر سے مراد شرک ہے کیونکہ مشرک شخص سرے سے جنت میں کبھی بھی داخل نہیں ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: ہمیشہ کے لئے ایسا نہیں ہو گا اس طرح سے دونوں مفہوم درست ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5680
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (89/ 114): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5651»