کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر اللہ جل وعلا کی مغفرت جو ہر پیر اور جمعرات کو غیر دشمنی کرنے والوں کے گناہوں کے لیے ہوتی ہے
حدیث نمبر: 5667
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ : يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ ، إِلا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا فِي الْمُوَطَّأِ مَوْقُوفٌ مَا رَفَعَهُ عَنْ مَالِكٍ إِلا ابْنُ وَهْبٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہر ہفتے میں دو مرتبہ لوگوں کے اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) پیش کئے جاتے ہیں۔ پیر کے دن اور جمعرات کے دن تو ہر مومن شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ ماسوائے اس بندے کے جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو تو یہ حکم دیا جاتا ہے۔ ان دونوں کے معاملے کو یوں ہی رہنے دو جب تک یہ دونوں رجوع نہیں کر لیتے۔ (یعنی صلح نہیں کر لیتے۔) “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ” موطا “ میں موقوف روایت کے طور پر منقول ہے امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر صرف ابن وہب نے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5667
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4/ 105 - التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5638»