کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع کہ مسلمانوں کے درمیان تین راتوں سے زیادہ ہجرت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 5662
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لأُمِّهَا ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ : وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ ، أَوْ لأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ : إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرًا أَنْ لا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا ، فَاسْتَشْفَعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا لَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ لا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا ، وَلا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ ، كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ، فَقَالَ لَهُمَا : نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ إِلا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ فِي قَطِيعَتِي ، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَقَدِ اشْتَمَلا عَلَيْهِ بِبُرْدَيْهِمَا ، حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالا : السَّلامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِيهٍ نَدْخُلُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : ادْخُلا ، فَقَالا : كُلُّنَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، ادْخُلُوا كُلُّكُمْ ، وَلا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَلَمَّا دَخَلُوا ، اقْتَحَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ ، وَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَاعْتَنَقَهَا ، وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي ، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ ، وَيَقُولانِ لَهَا : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا عَلِمْتِيهِ ، وَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ ، فَلَمَّا أَكْثَرَا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ ، طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي ، وَتَقُولُ : إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ ، فَلَمْ يَزَالا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ عَنْ نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ، ثُمَّ كَانَتْ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً تَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَائِشَةُ هِيَ خَالَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لأَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أُخْتُ عَائِشَةَ .
عوف بن حارث جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریبی عزیز ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کچھ فروخت کرنے پر یا عطیے کے طور پر کوئی چیز دینے پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ کہا: کہ اللہ کی قسم یا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایسا کرنے سے باز آ جائیں گی یا میں انہیں تصرف کرنے سے روک دوں گا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ کے نام پر مجھ پر یہ نذر لازم ہے اب میں عبداللہ بن زبیر کے ساتھ کبھی کلام نہیں کروں گی جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ان سے لاتعلقی زیادہ ہو گئی تو عبداللہ بن زبیر نے ان کی خدمت میں سفارش پیش کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم میں اس کے بارے میں کسی کی سفارش کو قبول نہیں کروں گی اور میں نے جو نذر مانی ہے کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گی۔ جب زیادہ عرصہ گزر گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن بن اسود سے بات کی۔ یہ دونوں صاحبان بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں سے کہا: میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لے جائیں کیونکہ ان کے لئے ایسی نذر ماننا جائز نہیں ہے، جس میں وہ مجھ سے تعلق توڑ لیں، تو مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر گئے۔ ان دونوں نے اپنی چادریں ان پر ڈال دیں اور ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ان دونوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام نازل ہو اے ام المؤمنین! کیا ہم اندر آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم دونوں آ جاؤ۔ ان دونوں نے عرض کی: ہم سب آ جائیں سیدہ عائشہ نے فرمایا ہاں تم سب آ جاؤ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا پتہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ہے۔ جب یہ حضرات اندر داخل ہوئے تو سیدنا عبداللہ زبیر نے پردہ ہٹایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ان کو گلے لگا لیا وہ روتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینے لگے۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطہ دیا اور ان دونوں نے ان سے کہا: آپ نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ کسی بھی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہنا جائز نہیں ہے جب ان دونوں صاحبان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زیادہ واعظ و نصیحت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یاد کروانا شروع کیا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہا: میں نے نذر مانی ہے نذر کا معاملہ شدید ہوتا ہے۔ لیکن وہ دونوں صاحبان ان کے ساتھ مسلسل بات کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی نذر کے عوض میں چالیس غلام آزاد کئے۔ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی وہ روتی رہتی تھیں یہاں تک کہ ان کی چادر ان کے آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں کیونکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ کے نام پر مجھ پر یہ نذر لازم ہے اب میں عبداللہ بن زبیر کے ساتھ کبھی کلام نہیں کروں گی جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ان سے لاتعلقی زیادہ ہو گئی تو عبداللہ بن زبیر نے ان کی خدمت میں سفارش پیش کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم میں اس کے بارے میں کسی کی سفارش کو قبول نہیں کروں گی اور میں نے جو نذر مانی ہے کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گی۔ جب زیادہ عرصہ گزر گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن بن اسود سے بات کی۔ یہ دونوں صاحبان بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں سے کہا: میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لے جائیں کیونکہ ان کے لئے ایسی نذر ماننا جائز نہیں ہے، جس میں وہ مجھ سے تعلق توڑ لیں، تو مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر گئے۔ ان دونوں نے اپنی چادریں ان پر ڈال دیں اور ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ان دونوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام نازل ہو اے ام المؤمنین! کیا ہم اندر آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم دونوں آ جاؤ۔ ان دونوں نے عرض کی: ہم سب آ جائیں سیدہ عائشہ نے فرمایا ہاں تم سب آ جاؤ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا پتہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ہے۔ جب یہ حضرات اندر داخل ہوئے تو سیدنا عبداللہ زبیر نے پردہ ہٹایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ان کو گلے لگا لیا وہ روتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینے لگے۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطہ دیا اور ان دونوں نے ان سے کہا: آپ نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ کسی بھی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہنا جائز نہیں ہے جب ان دونوں صاحبان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زیادہ واعظ و نصیحت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یاد کروانا شروع کیا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہا: میں نے نذر مانی ہے نذر کا معاملہ شدید ہوتا ہے۔ لیکن وہ دونوں صاحبان ان کے ساتھ مسلسل بات کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی نذر کے عوض میں چالیس غلام آزاد کئے۔ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی وہ روتی رہتی تھیں یہاں تک کہ ان کی چادر ان کے آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں کیونکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔