کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے روکنے کا کیا ارادہ کیا
حدیث نمبر: 5656
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ ، وَمَعَنَا شُعْبَةُ ، فَلَمَّا دُفِنَ ، قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَى قَبْرِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا " ؟ فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ ، وَاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ حَدَّثَنِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، وَأَوْمَأَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَامِعِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اسْمُ أَبِي سُفْيَانَ : سَعْدٌ ، وَلَقَبُهُ سُلْسٌ ، وَلَيْسَ لأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ فِي الدُّنْيَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ غَيْرَ هَذَا ، وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلاءِ اسْمُهُ زَبَّانُ ، وَهُمْ أَرْبَعَةٌ : أَبُو مُعَاذٍ ، وَعُمَرُ .
سید بن عبید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ابوسفیان بن علاء کے جنازے میں شریک ہوئے ہمارے ساتھ شعبہ بھی تھے جب ابوسفیان کو دفن کر دیا گیا تو شعبہ نے کہا: ان صاحب نے مجھے حدیث بیان کی ہے۔ انہوں نے ابوسفیان کی قبر کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: یہ کہتے ہیں: میں نے حسن سے کہا: آپ کو کس نے یہ حدیث بیان کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا۔ “ تو انہوں نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے انہوں نے اس مسجد میں مجھے یہ حدیث بیان کی تھی حسن نے جامع مسجد کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسفیان نامی راوی کا نام سعد ہے ان کا لقب ” سلس“ ہے۔ ابوسفیان بن علاء کے حوالے سے دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی مسند حدیث موجود نہیں ہے۔ یہ ابوعمرو بن علاء کے بھائی تھے اور عمرو بن علاء کا نام زبان تھا۔ یہ چار بھائی تھے۔ (ان کے علاوہ دو بھائیوں کے نام) ابومعاذ اور عمر ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسفیان نامی راوی کا نام سعد ہے ان کا لقب ” سلس“ ہے۔ ابوسفیان بن علاء کے حوالے سے دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی مسند حدیث موجود نہیں ہے۔ یہ ابوعمرو بن علاء کے بھائی تھے اور عمرو بن علاء کا نام زبان تھا۔ یہ چار بھائی تھے۔ (ان کے علاوہ دو بھائیوں کے نام) ابومعاذ اور عمر ہیں۔