کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیت اور مویشی کے کتے کو عام رکھنے سے مستثنیٰ کیا، اس سے اس کے علاوہ کی نفی مراد نہیں
حدیث نمبر: 5655
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو لوگ بھی ایسا کتا پالتے ہیں، جو شکار کرنے کے لئے یا کھیت کی حفاظت کے لئے یا جانوروں کی حفاظت کے لئے نہ ہو تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5655
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى قريباً (5621). تنبيه!! رقم (5621) = (5650) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5626»