کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - بیان کیا گیا کہ اس حکم کے پیچھے سبب کیا تھا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 5649
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا ، قَالَتْ مَيْمُونَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَدْ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ ، فَلَمْ يَلْقَنِي ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي ، قَالَتْ : فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً ، فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا لا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلا صُورَةٌ " ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلابِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ ، وَبِتَرْكِ كَلْبِ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ مجھے بتایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اٹھے تو پریشان تھے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آج آپ کے چہرے کی رنگت تبدیل محسوس ہو رہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ گزشتہ رات مجھ سے ملنے کے لئے آئیں گے لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے اللہ کی قسم وہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دن اسی عالم میں (یعنی پریشانی کے عالم میں) گزار دیا پھر آپ کے ذہن میں کتے کے اس بچے کا خیال آیا جو ہمارے بستر کے نیچے تھا۔ آپ کے حکم کے تحت اسے باہر نکال دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اس پر پانی چھڑکا شام کے وقت سیدنا جبرائیل آئے وہ آپ اسے ملنے کے لئے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا گزشتہ رات تم مجھ سے ملنے کے لئے آؤ گے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجود ہو۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار دینے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ نے چھوٹے باغ (کے محافظ) کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا۔ البتہ بڑے باغ (کے محافظ) کتے کو آپ نے چھوڑ دیا۔