کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر ان سانپوں کی صفت جنہیں مارنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5638
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ " . قَالَ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، وَقَالَ : " فَمَنْ وَجَدَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ ، فَلَمْ يَقْتُلْهُمَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” سانپوں کو مار دو (بطور خاص) دو دھاری دم کٹے ہوئے (کو ضرور مارو) کیونکہ یہ بینائی کو ختم کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔ “
ابن وھب کہتے ہیں: ایک اور سند کے ساتھ سالم کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہے۔ ” جو شخص دو دھاری یا دم کٹے ہوئے سانپ کو پائے اور اسے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5638
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3991): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5609»