کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس سبب کا جس کی وجہ سے ہنس کو مارنے کا حکم دیا گیا۔
حدیث نمبر: 5631
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلاةٍ لِفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ ، فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعَةً ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا ؟ قَالَتْ : نَقْتُلُ بِهِ الأَوْزَاغَ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، لَمْ يَكُنْ فِي الأَرْضِ دَابَّةٌ إِلا أَطْفَأَتِ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ " .
سائبہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں: وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا۔ انہوں نے دریافت کیا: اے ام المؤمنین آپ اس کے ذریعے کیا کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہم اس کے ذریعے چھپکلیاں مارتے ہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے: جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو آگ میں ڈالا گیا، تو روئے زمین پر موجود ہر جانور نے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی صرف چھپکلی نے ایسا نہیں کیا یہ اس پر پھونک مار رہی تھی۔ (تاکہ وہ آگ زیادہ بھڑکے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5631
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1581). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5602»