کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ چار پیروں والے جانور پر چہرے کے سوا دیگر حصوں پر نشان لگائے
حدیث نمبر: 5629
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي يُرِيدُ أَنْ يُحَنِّكَهُ ، فَوَجَدَهُ فِي الْمِرْبَدِ ، وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا " ، قَالَ شُعْبَةُ : أَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : فِي آذَانِهَا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے چھوٹے بھائی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ اسے گٹھی دیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باغ میں پایا آپ بکریوں کو داغ لگا رہے تھے۔
شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: میرا غالب گمان یہ ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہے: آپ ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5629
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2309): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5600»