کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - زجر بیان کیا گیا کہ چار پیروں والے جانور کے چہرے پر نشان نہ لگائے
حدیث نمبر: 5625
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ، قَالَ : " وَاللَّهِ لا أَسِمُهُ إِلا أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ ، فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ ، فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا، تو آپ نے اس بات کا انکار کیا آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم میں، تو اس کے جسم کے اس حصے پر داغ لگاؤں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کے رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا یہ وہ پہلا جانور تھا جس کے رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5625
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5596»