کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - دوسری خبر بیان کی گئی جو پہلے بیان شدہ خبر کی تصدیق کرتی ہے
حدیث نمبر: 5624
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللَّهِ لا أَسِمُهُ إِلا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ ، فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا تو آپ نے اس کی سختی سے مذمت کی۔ ان صاحب نے عرض کی: اللہ کی قسم اب میں اس کے جسم کے اس حصے پر داغ لگاؤں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو تو ان صاحب کے حکم کے تحت ان کے گدھے کے رانوں کے اس حصے پر داغ لگایا گیا (جہاں تک دم ہلانے تک پہنچتی ہے) تو وہ پہلا جانور تھا جس کے رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5624
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (6/ 163 - 164). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5595»