کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ چار پیروں والے جانور پر نشانات لگائے
حدیث نمبر: 5623
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ الْعَبَّاسَ ، وَسَمَ بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً فِي وَجْهِهِ ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ ، فَقَالَ عَبَّاسٌ : لا أَسِمُهُ إِلا فِي آخِرِهِ ، فَوَسَمَهُ فِي جَاعِرَتَيْهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ یا کسی جانور کے چہرے پر داغ لگایا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ غصے میں آ گئے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اب میں ہمیشہ اس کے جسم کے پیچھے حصے پر داغ لگایا کروں گا تو پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے جاعرة (ران کا وہ حصہ جہاں تک جانور کی دم ہلانے تک پہنچتی ہے) پر داغ لگایا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5623
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5594»