حدیث نمبر: 5615
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا ، فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى ، فَتَقْطَعُ آذَانَهَا ، فَتَقُولُ : هَذِهِ بُحُرٌ ، أَوْ تَشُقُّ جُلُودَهَا ، وَتَقُولَ : هَذِهِ صُرُمٌ ، فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ ، سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ " : مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهَيَّأُ مَعْرِفَةُ الْخَطَّابِ فِي الْقَصْدِ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ إِلا بِهِ ، وَقَوْلُهُ : " فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ " : لَفْظَةُ أَمْرٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ سَبَبِ ذَلِكَ الشَّيْءِ ، وَهُوَ اسْتِعْمَالُ الْقَوْمِ فِي الإِبِلِ قَطْعَ الآذَانِ ، وَشَقَّ الْجُلُودِ ، وَتَحْرِيمَهَا عَلَيْهَا .
ابواحوص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا: کیا ایسا ہے تمہاری قوم کے اونٹ صحیح و سالم کانوں والے بچے کو جنم دیتے ہیں پھر کوئی شخص استرا لے کر اس کا کان کاٹ دیتا ہے۔ اور کہتا ہے: یہ بحر (یعنی فلاں بت کے لئے مخصوص) ہے یا وہ اس کی کھال کو چیر دیتا ہے اور یہ کہتا ہے یہ صرم (یعنی فلاں بت کے لئے مخصوص ہے) اور پھر وہ شخص اس اونٹ کو اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے حرام قرار دے دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں جو بھی چیز عطا کرتا ہے وہ حلال ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ تعالیٰ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ” اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے۔ “ یہ لوگوں کے محاور ے کے مطابق ہے کیونکہ سننے والے تک یہ مفہوم ان کے محاور ے کے مطابق ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے وہ تمہارے لئے حلال ہے۔ “ یہاں پر لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز کے سبب سے منع کرنا ہے اور وہ لوگوں کا اونٹوں کے بارے میں یہ طرز عمل اختیار کرنا ہے وہ ان کے کان کاٹ دیتے ہیں اور ان کی کھال چیر دیتے ہیں پھر اسے اپنے لئے حرام قرار دے دیتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ” اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے۔ “ یہ لوگوں کے محاور ے کے مطابق ہے کیونکہ سننے والے تک یہ مفہوم ان کے محاور ے کے مطابق ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے وہ تمہارے لئے حلال ہے۔ “ یہاں پر لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز کے سبب سے منع کرنا ہے اور وہ لوگوں کا اونٹوں کے بارے میں یہ طرز عمل اختیار کرنا ہے وہ ان کے کان کاٹ دیتے ہیں اور ان کی کھال چیر دیتے ہیں پھر اسے اپنے لئے حرام قرار دے دیتے ہیں۔