کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: عذاب دینے کے بیان میں ایک فصل - زجر بیان کیا گیا کہ مسلمانوں کو مارنا منع ہے سوائے اس کے جو کتاب اور سنت اجازت دیتے ہیں
حدیث نمبر: 5603
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجِيبُوا الدَّاعِيَ ، وَلا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ ، وَلا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمَرُ ، وَيَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، بَنُو عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيِّ ، كُوفِيُّونَ ثِقَاتٌ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” دعوت قبول کرو تحفے کو واپس نہ کرو اور مسلمانوں کی پٹائی نہ کرو۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمر، یعلیٰ اور محمد نامی راوی یہ سب عبید طنافسی کے بیٹے ہیں یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5603
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1616). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5574»