کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس اجازت کا کہ عورت اپنے باپ یا باپ کے آزاد کردہ غلاموں کی عیادت کے لیے شوہر سے اجازت لے کر جا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 5600
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى ، وَاشْتَكَى أَصْحَابُهُ ، وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَبِلالٌ ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ لأَبِي بَكْرٍ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَسَأَلَتْ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ ، وَسَأَلَتْ بِلالاً ، فَقَالَ : أَلا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا ، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ " ، وَهِيَ الْجُحْفَةُ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ بیمار ہو گئے۔ آپ کے اصحاب بھی بیمار ہو گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی عیادت کے لئے ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی۔ ان کو اجازت مل گئی تو انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کا کیا حال ہے۔ انہوں نے جواب دیا: ہر شخص اپنے گھر میں موجود ہوتا ہے حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر بن فہیرہ سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: میں نے موت کا ذائقہ چکھنے سے پہلے ہی اس کو محسوس کر لیا ہے اور بزدل شخص طبعی موت مرتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے مزاج دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا۔ ” ہائے افسوس کیا میں کسی ایسے راستے میں رات بسر کروں گا جب میرے اردگرد اذخر اور جلیل (مکہ کی مخصوص گھاس) ہوگی۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان حضرات کے جوابات کے بارے میں آپ کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور یہ دعا کی۔ ” اے اللہ تو مدینہ منورہ ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کر دے جس طرح تو نے ہمیں مکہ محبوب کیا تھا بلکہ اس سے زیادہ شدید محبوب کر دے اے اللہ! یہاں کے صاع اور مد میں ہمارے لئے برکت رکھ دے اور یہاں کی وباء کو مہیعہ کی طرف منتقل کر دیے۔ “
(راوی بیان کرتے ہیں) اس سے مراد جحفہ ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5600
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ - تقدم (3716). تنبيه!! رقم (3716) = (3724) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح بطرقه
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5571»