کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - باب اس زجر کا کہ عورتیں حماموں میں نہ جائیں اگرچہ ان کے بدن پر کپڑا (ازار) ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5597
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلا بِمِئْزَرٍ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ ، فَلا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ " ، قَالَ : فَنَمَيْتُ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلافَتِهِ ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنْ سَلَ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ ، فَإِنَّهُ رِضًا ، فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ ، فَمَنَعَ النِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامِ .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے پڑوسی کی عزت افزائی کرنی چاہئے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند پہن کر حمام میں داخل ہو جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہئے یا خاموش رہنا چاہئے اور تمہاری خواتین میں سے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں داخل نہ ہو۔ “
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں یہ بات لکھ کر انہیں بھجوائی تو انہوں نے ابوبکر بن محمد کو خط لکھا کہ محمد بن ثابت سے ان کی نقل کردہ احادیث کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ وہ پسندیدہ راوی ہے۔ ابوبکر بن محمد نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا پھر انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو خط میں لکھا تو عمر بن عبدالعزیز نے خواتین کے حمام میں جانے پر پابندی عائد کر دی۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں یہ بات لکھ کر انہیں بھجوائی تو انہوں نے ابوبکر بن محمد کو خط لکھا کہ محمد بن ثابت سے ان کی نقل کردہ احادیث کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ وہ پسندیدہ راوی ہے۔ ابوبکر بن محمد نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا پھر انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو خط میں لکھا تو عمر بن عبدالعزیز نے خواتین کے حمام میں جانے پر پابندی عائد کر دی۔