کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس بیان کا کہ اگر کسی ضرورت کے لیے کسی مرد کو کسی غیر عورت کے پاس جانا ہو تو ایک دوسرا شخص اس کے ساتھ ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5585
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَرَآهُمْ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ ، وَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلا خَيْرًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " لا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ ، إِلا وَمَعَهُ رَجُلٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے سیدہ اسماء ان کی اہلیہ تھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور ساتھ یہ بات بیان کی کہ میری رائے اچھی ہے لیکن (مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اس عورت کو اس سے بری کر دے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: آج کے دن کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو البتہ اس کے شوہر کے ساتھ جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5585
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3086): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5558»