کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس زجر کا کہ کوئی شخص ایسی عورت کے پاس اکیلا داخل نہ ہو جس کا شوہر موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5584
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، يَقُولُ : جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى مَنْزِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَلْتَمِسُهُ ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَوَجَدَهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ كَلَّمَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا أَرَى حَاجَتَكَ إِلا إِلَى الْمَرْأَةِ ، قَالَ : أَجَلْ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ " ، أَبُو صَالِحٍ هَذَا : اسْمُهُ مِيزَانٌ ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، ثِقَةٌ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَرَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ مَا رَوَى غَيْرُ هَذَيْنِ ، وَلَيْسَ هَذَا بِصَاحِبِ الْكَلْبِيِّ ، فَإِنَّهُ وَاهٍ ضَعِيفٌ .
ابوصالح بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کرتے ہوئے ان کے گھر آئے وہ انہیں نہیں مل سکے پھر وہ واپس چلے گئے پھر جب ان کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور وہ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر) آئے تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بات چیت کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرا یہ خیال ہے آپ کو اس خاتون کے ساتھ کوئی کام تھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے ہم کسی ایسی خاتون کے پاس جائیں، جس کا شوہر موجود نہ ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوصالح نامی راوی کا نام میزان ہے یہ اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ثقہ ہے۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے جب کہ ان کے حوالے سے سلمان تیمی اور محمد بن حجادہ نے روایات نقل کی ہے۔ ان کے حوالے سے ان دو راویوں کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی۔ یہ صاحب کلبی کے شاگرد نہیں ہے کیونکہ کلبی کا جو شاگرد ہے وہ ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5584
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره؛ إلا قوله: فاطمة - «الصحيحة» (652). * [وَلَيْسَ هَذَا بِصَاحِبِ الْكَلْبِيِّ فَإِنَّهُ وَاهٍ ضَعِيفٌ] قال الشيخ: قلت: يعني: أبا صالح، المُسَمَّى بـ (باذام)، له ترجمةٌ سيِّئة فِي «الضُّعَفَاء» للمؤلف (1/ 185)، وغيره، وهو صاحبُ حَدِيث ابن عَبَّاسٍ: لَعَنَ رَسُوْلُ الله صلى الله عليه وسلم زائرات القبور - المتقدم (3169) -؛ خلافاً للمؤلِّف؛ فَإِنَّه ذكر هناك كما قال هنا -: «ليس بصاحب الكلبيِّ»! وقوله في (ميزان) - هذا -: «ما روى عنه غير هذين»: ينافيه قوله في «الثقات» (5/ 458): روى عنه سليمان التيمي وأهل البصرة. وقولُه هنا: «روى عنه محمد بن جحادة»؛ فَإِنَّه يشير إلى حديث ابن عباس في الزيارة؛ فإنه عن ابن حجادة، عن أبي صالح عنه. وقد فرَّق ابنُ أَبِي حاتم بين أبي صالح عَنِ ابن عبَّاسٍ، وأبي صالح عن عمرو بن العاص: فالأوَّلُ: باذام - وهو الَّذي رَوَى عنه ابن جَحادة -. والآخر: ميزان - وهو الَّذي رَوَى عنه سليمان - الثِّقة. وانظر التعليق على «صحيح الموارد». تنبيه!! قول الألباني في التحقيق [حديث ابن عباس ... المتقدم (3169)]. رقم (3169) = (3179) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5557»