کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس حکم کا کہ شبہات سے بچنا چاہیے کیونکہ یہی انسان کو حرام میں گرنے سے بچانے والی آڑ ہے۔
حدیث نمبر: 5569
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الْقِتْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْحَرَامِ سُتْرَةً مِنَ الْحَلالِ ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ ، وَمَنْ أَرْتَعَ فِيهِ كَانَ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَنْبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الأَرْضِ ، مَحَارِمُهُ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ” اپنے اور حرام کے درمیان حلال کے ذریعے رکاوٹ بنا لو جو شخص ایسا کر لے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ کر لے گا اور جو شخص اس میں چرنے کی کوشش کرے گا تو وہ چراگاہ کے پہلو میں چرنے والا ہو گا اور اس بات کا احتمال موجود ہے وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائے ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے۔ زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5569
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (896). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5543»