کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس خبر کا کہ جس کا رزق حرام ہو اس کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے (نعوذ باللہ)۔
حدیث نمبر: 5567
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَدَمٌ نَبَتَا عَلَى سُحْتٍ ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، النَّاسُ غَادِيَانِ : فَغَادٍ فِي فَكَاكِ نَفْسِهِ ، فَمُعْتِقُهَا ، وَغَادٍ مُوبِقُهَا ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، الصَّلاةُ قُرْبَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يَذْهَبُ الْجَلِيدُ عَلَى الصَّفَا " .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اے کعب بن عجرہ! ایسا گوشت اور خون جنت میں داخل نہیں ہوں گے جن کی نشوونما حرام پر ہوئی ہو آگ ان کے زیادہ لائق ہے۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ دو طرح کی حالت میں نکلتے ہیں۔ ایک شخص اپنے آپ کو رہا کروا کے خود کو آزاد کروا لیتا ہے اور ایک خود کو غلام بنوا لیتا ہے۔ “ اے کعب بن عجرہ! نماز قربت کے حصول کا باعث ہے صدقہ برہان ہے روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہ کو یوں ختم کر دیتا ہے جس طرح کوئی قوت والا شخص صفا پر جاتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5567
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف بهذا اللفظ - «الضعيفة» (5797). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5541»