کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس بیان کا کہ مذکورہ عدد (سات) سے اس کے علاوہ گناہوں کی نفی مراد نہیں۔
حدیث نمبر: 5562
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْكَبَائِرُ ؟ قَالَ : " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ " ، قُلْتُ لِعَامِرٍ : مَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ؟ قَالَ : الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ صَبْرٍ ، وَهُوَ فِيهَا كَاذِبٌ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ کبیرہ گناہ کون سا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا اس نے دریافت کیا پھر کون سا ہے۔ آپ نے فرمایا پھر والدین کی نافرمانی کرنا اس نے دریافت کیا پھر کون سا ہے آپ نے فرمایا پھر جھوٹی قسم اٹھانا۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد عامر سے دریافت کیا یمین غموس سے مراد کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہ کہ آدمی جھوٹی قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5562
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5536»