کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - باب ان خصلتوں کا ذکر جن کے پائے جانے سے انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا مستحق بنتا ہے۔
حدیث نمبر: 5557
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الآخِرَةِ ، أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاقًا ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ ، وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الآخِرَةِ ، أَسْوَؤُكُمْ أَخْلاقًا ، الْمُتَشَدِّقُونَ ، الْمُتَفَيْهِقُونَ ، الثَّرْثَارُونَ " .
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” آخرت میں تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے اور آخرت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق زیادہ برے ہوں گے وہ لوگ جو تکلف کے ساتھ خود کو فصیح ظاہر کرتے ہیں پھیلا کر گفتگو کرتے ہیں، واہی تباہی بولتے ہیں۔ “