کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - باب اس زجر کا کہ چند معروف باتوں سے ان خاص وجوہات کی بنا پر روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5556
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا غُلامَهُ وَرَّادًا ، فَقَالَ : اكْتُبْ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ وَأْدِ النَّبَاتِ ، وَعُقُوقِ الأُمَّهَاتِ ، وَعَنْ مَنَعَ وَهَاتِ ، وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ " ، سَمِعَ الشَّعْبِيُّ هَذَا عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَهُ الشَّيْخُ .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث تحریر کر کے بھیج دیں، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے نوجوان (سیکرٹری) وراد کو بلایا اور بولے: تم یہ لکھو کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے ماؤں کی نافرمانی کرنے، دوسروں کا حق ادا نہ کرنے اور ان کا حق مارنے، فضول بحث تمحیص اور بکثرت سوالات (یعنی غیر ضروری سوالات یا ضرورت کے بغیر مانگنے) اور مال کو ضائع کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
امام شعبی نے یہ روایت وراد کے حوالے سے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
امام شعبی نے یہ روایت وراد کے حوالے سے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔