کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ اللہ جل وعلا پیٹ کے بل سونے والوں سے بغض رکھتا ہے
حدیث نمبر: 5550
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ قَيْسِ بْنِ طِغْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَالَ : يَا فُلانُ ، انْطَلِقْ مَعَ فُلانٍ ، وَيَا فُلانُ ، انْطَلِقِ مَعَ فُلانٍ ، حَتَّى بَعَثَ خَمْسَةً أَنَا خَامِسُهُمْ ، فَقَالَ : قُومُوا مَعِي ، فَفَعَلْنَا ، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، أَطْعِمِينَا ، فَقَرَّبَتْ جَشِيشَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، أَطْعِمِينَا ، فَقَرَّبَتْ حَيْسًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، اسْقِينَا ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، اسْقِينَا ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ دُونَهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ نِمْتُمْ عِنْدَنَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَتَيْتُمُ الْمَسْجِدَ فَنِمْتُمْ فِيهِ ، قَالَ : فَنِمْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ ، فَأَصَابَنِي نَائِمًا عَلَى بَطْنِي ، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَلِهَذِهِ النَّوْمَةِ ، هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ ، أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ " .
سیدنا قیس بن طغفہ غفاری رضی الہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت صفہ (کے چبوترے) پر موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں تم فلاں کے ہمراہ روانہ ہو جاؤ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ افراد کو بھیجا جن میں میں بھی شامل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ہمارے ساتھ چلو ہم نے ایسا ہی کیا ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! ہمیں کھانے کے لئے کچھ دو تو انہوں نے جشیشہ (مخصوص قسم کا کھانا) آگے کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں (مزید کچھ) کھانے کے لئے دو تو انہوں نے حیس (مخصوص قسم کا کھانا) پیش کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں (مزید کچھ) پینے کے لئے دو تو انہوں نے عس (مخصوص قسم کا مشروب) پیش کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر آپ نے فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں پینے کے لئے کچھ اور دو تو وہ مزید عس لے آئیں جو پہلے سے کچھ کم تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا اگر تم لوگ چاہو تو تم ہمارے ہاں سو جاؤ اور اگر تم چاہو تو مسجد جا کر وہاں سو جاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں تو ہم لوگ مسجد میں سو گئے رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے مجھے پیٹ کے بل سوئے ہوئے پایا تو آپ نے اپنے پاؤں کے ذریعے مجھے ٹہوکا دے کر ارشاد فرمایا کیا وجہ ہے تم اس طرح سو رہے ہو یہ سونے کا ایسا طریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 5551
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَسْتَلْقِ الإِنْسَانُ عَلَى قَفَاهُ ، وَيَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْفِعْلُ الَّذِي زَجَرَ عَنْهُ : هُوَ أَنْ يَسْتَلْقِيَ الْمَرْءُ عَلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ يَشِيلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ ، وَيَضَعَهَا عَلَى الأُخْرَى ، وَذَاكَ أَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا أَصْحَابَ مَيَازِرَ ، وَإِذَا اسْتَعْمَلَ مَا وَصَفْتُ ، مَنْ عَلَيْهِ الْمِئْزَرُ دُونَ السَّرَاوِيلِ ، رُبَّمَا تُكْشَفُ عَوْرَتُهُ ، فَمِنْ أَجْلِهِ مَا نَهَى عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” کوئی انسان اپنی گدی کے بل اس طرح نہ لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں دوسرے پر ہو۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ فعل جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے مراد یہ ہے: آدمی گدی کے بل یوں لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں اوپر ہو اور اسے اس نے دوسرے پر رکھ لیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے وہ لوگ تہبند باندھا کرتے تھے اور جس شخص نے تہبند باندھا ہوا ہو شلوار نہ پہنی ہوئی ہو اگر وہ اس طریقے پر عمل کرے تو ایسا کرنے کے نتیجے میں اس کی شرم گاہ سے پردہ ہٹ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ فعل جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے مراد یہ ہے: آدمی گدی کے بل یوں لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں اوپر ہو اور اسے اس نے دوسرے پر رکھ لیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے وہ لوگ تہبند باندھا کرتے تھے اور جس شخص نے تہبند باندھا ہوا ہو شلوار نہ پہنی ہوئی ہو اگر وہ اس طریقے پر عمل کرے تو ایسا کرنے کے نتیجے میں اس کی شرم گاہ سے پردہ ہٹ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔