کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ مؤمن کے لیے نماز عشاء سے پہلے سونے سے پرہیز ضروری ہے
حدیث نمبر: 5547
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعَتْنِي عَائِشَةُ ، وَأَنَا أَتَكَلَّمُ بَعْدَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، فَقَالَتْ : " يَا عُرَيُّ ، أَلا تُرِيحُ كَاتِبَكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَنَامُ قَبْلَهَا ، وَلا يَتَحَدَّثُ بَعْدَهَا " .
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے عشاء کی نماز کے بعد بات کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا: اے عروہ کیا تم اپنے کاتب (یعنی نیکیاں لکھنے والے فرشتے) کو آرام نہیں کرنے دو گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے پہلے سوتے نہیں تھے اور اس کے بعد بات چیت نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5547
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: هذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم؛ غير الحسن بن سفيان - وهو النسوي -، وهو حافظ ثقة ثبت مشهور. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5521»