کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اس علت (سبب) کا ذکر جس کی بنا پر اس عمل کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 5546
أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ لَنَا ، فَتَكْفُلُهَا زَيْنَبُ ؟ قَالَ : ثُمَّ جَاءَ ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا ، قَالَ : فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لِتُعَمِّلَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي ، قَالَ : " اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " .
فروہ بن نوفل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہیں ہماری سوتیلی بیٹی میں دلچسپی ہے زینب اس کا خیال رکھا جائے راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا میں اسے اس کی والدہ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا پھر تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کی: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دیں، جسے میں رات کے وقت پڑھ لیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سورہ الکافرون پڑھ لیا کرو اور پھر اسے پڑھنے کے بعد سو جایا کرو یہ سورۃ شرک سے بری ذمہ ہونے کا اظہار ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5546
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره دون ما تقدم الإشارة إليه برقم (5501). تنبيه!! رقم (5501) = (5526) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5520/*»