کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ انسان اپنے رب سے خواب میں اپنے دین کے قرض اور فقر سے نجات طلب کرے
حدیث نمبر: 5537
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو صَالِحٍ ، يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ ، أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، أَنْتَ الأَوَّلُ ، فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الآخِرُ ، فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " ، وَكَانَ يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابوصالح ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے لگے، تو وہ اپنے دائیں پہلو کے بل (بستر پر) لیٹ جائے اور پھر یہ پڑھے۔ ” اے اللہ! اے تمام آسمانوں کے پروردگار اور زمین کے پروردگار اور عظیم عرش کے پروردگار اے ہمارے پروردگار اور اے ہر چیز کے پروردگار! اے دانے اور گٹھلی کو چیرنے والے! اے تورات انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ہے تو ہی سب کے بعد ہے تیرے بعد کچھ نہیں ہے تو ایسا ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں ہے تو ہماری طرف سے قرض کو ادا کر دے اور ہمیں غربت سے محفوظ کر دے۔ “
سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابوصالح نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5537
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج الكلم الطيب» (40). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5512»