کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ یہ دعا صرف اس کے لیے ہے جو بستر پر جا رہا ہو اور وضو کے ساتھ سونے والا ہو
حدیث نمبر: 5536
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ ، ثُمَّ قُلِ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَاجْعَلْهُ آخِرَ مَا تَقُولُ ، فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَقُلْتُ : أَسْتَذْكِرُهُنَّ ، وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ؟ فَقَالَ : وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم بستر پر جانے لگو تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو پھر اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاؤ پھر یہ پڑھو۔ ” اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سامنے جھکا دیا میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا۔ میں نے رغبت رکھتے ہوئے اور ڈر رکھتے ہوئے اپنی پشت تیرے ساتھ لگا دی (یعنی تجھ پر آسرا کر لیا) تیرے مقابلے میں تیرے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ہے۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔ “ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) تم ان کلمات کو اپنی آخری گفتگو بناؤ اگر تم (اسی رات میں) فوت ہو جاتے ہو تو تم فطرت (یعنی دین اسلام) پہ فوت ہو گے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں یاد کرتے ہوئے لفظ ” تیرے نبی پر ایمان لایا “ کی بجائے ” تیرے رسول پر ایمان لایا “ پڑھ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یہ پڑھو) تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔