کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ جو شخص سونے سے پہلے یہ کہے، یہ اس کے لیے خادم کی طرح بہترین ہے
حدیث نمبر: 5529
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَخْدِمُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أَدُلُّكِ أَوْ أُعَلِّمُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ ، إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ ، فَسَبِّحِي وَكَبِّرِي وَهَلِّلِي ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَأَرْبَعًا وَثَلاثِينَ " ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَلَمْ أَدَعْهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ قَالَ : وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خادم مانگنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا میں تمہیں اس چیز کی تعلیم نہ دوں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو۔ جب تم اپنے بستر پر (سونے کے لئے) جاؤ تو 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، اللہ اکبر اور لا اللہ الا اللہ پڑھ لیا کرو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے میں نے اس عمل کو کبھی ترک نہیں کیا۔ لوگوں نے دریافت کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جنگ صفین کی رات بھی (میں نے اس عمل کو ترک نہیں کیا)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5529
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. * [مُجَاهِدٍ] قال الشيخ: تابعه الحكم (5499). تنبيه!! رقم (5499) = (5524) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5504»