کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ جو شخص سونے سے پہلے کچھ کہے اور موت آجائے تو فطرت پر مرے
حدیث نمبر: 5527
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ، وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ : أَوْصَى رَجُلاً أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ " .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ بستر پر جائے۔ یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ تلقین کی کہ وہ یہ پڑھے ” اے اللہ! میں اپنا آپ تیرے سپرد کرتا ہوں میں نے اپنا رخ تیری طرف کیا میں نے اپنی پشت کو تیرے سہارے کر دیا۔ میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا۔ تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے بھی اور تیری (بے نیازی سے) ڈرتے ہوئے بھی تیرے علاوہ اور کوئی پناہ گاہ اور نجات کی جگہ نہیں ہے۔ تیرے مقابلے میں صرف تیری طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کلمات کو پڑھنے والا شخص اگر اسی رات میں) فوت ہو جاتا ہے تو وہ فطرت (یعنی دین اسلام) پر مرے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5527
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2889): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5502»