حدیث نمبر: 5526
أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ لَنَا ، فَتَكْفُلُهَا زَيْنَبُ ؟ قَالَ : ثُمَّ جَاءَ ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا ، قَالَ : فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي ، قَالَ : اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " .
فروہ بن نوفل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہیں ہماری سوتیلی صاحب زادی (کی تعلیم و تربیت) میں دلچسپی ہے تاکہ زینب اس کی کفالت کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (اس بچی کے بارے میں) دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا پھر تم کس کام سے آئے ہو۔ انہوں نے عرض کی: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سورت الکافرون کی تلاوت کیا کرو اور ان اختتامی کلمات کے ہمراہ سو جایا کرو یہ سورت شرک سے بری ذمہ ہونے کا اظہار ہے۔