کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ انسان سونے سے پہلے کیا کہے، تسبیح، تکبیر اور تحمید
حدیث نمبر: 5524
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُوا إِلَيْهِ أَثَرَ الرَّحَى ، وَبَلَغَهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَبْيٍ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا ، فَلَمْ تَلْقَهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ ، فَحَدَّثَتْهَا الْحَدِيثَ ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ ، فَقَالَ : " مَكَانَكُمَا ، وَقَعَدَ بَيْنَنَا ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي ، فَقَالَ : أَدَلُّكَمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي ، تُكَبِّرَانِ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ، وَتُسَبِّحَانِ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتَحْمَدَانِ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ چکی پیسنے کی وجہ سے ہونے والی مشقت کی شکایت آپ سے کریں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا پتہ چلا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ قیدی آئے ہیں، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خادم مانگنے کے لئے تشریف لائی تھیں۔ ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی۔ ان کی ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساری بات بتا دی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا دی۔ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (رات کے وقت) اس وقت ہمارے پاس تشریف لائے جب ہم اپنے بستر میں لیٹ چکے تھے ہم اٹھنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی جگہ پر رہو۔ آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم دونوں نے مجھ سے جو چیز مانگی ہے کیا میں اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں۔ تم 34 مرتبہ اللہ اکبر 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد اللہ اس وقت پڑھ لیا کرو جب تم اپنے بستر پر لیٹو یہ تم دونوں کے لئے خادم (کے ملنے) سے زیادہ بہتر ہے۔