کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - باب اس لعنت کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
حدیث نمبر: 5516
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ ، وَأَنَّهَا مَرِضَتْ ، فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا ، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهَا ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی شادی ہوئی۔ وہ بیمار ہوئی تو اس کے بال جھڑ گئے۔ ان لوگوں نے اسے نقلی بال لگانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقلی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت کی۔