کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - باب اس لعنت کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کے لیے بال لگانے والی عورت پر لعنت فرمائی۔
حدیث نمبر: 5514
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَفِيَّةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : إِنَّ جَارِيَةً زَوَّجُوهَا ، فَمَرِضَتْ ، فَتَمَعَّطَ شَعْرُهَا ، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوا فِي شَعْرِهَا ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ، وَالْمُوَاصَلَةَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی کی شادی ہو گئی۔ وہ بیمار ہو گئی۔ اس کے بال جھڑ گئے۔ اس کے خاندان والوں نے اس کے نقلی بال لگوانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نقلی بال لگانے والی اور نقلی بال لگوانے والی اور نقلی بال لگوانے پر لعنت کی ہے۔