کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس بیان کا کہ بنی اسرائیل اسی وقت ہلاک ہوئیں جب ان کی عورتوں نے اپنے بالوں میں دوسرے کے بال لگانے شروع کیے۔
حدیث نمبر: 5512
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، عَامَ حَجَّ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ تَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ ، وَيَقُولُ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حَيْثُ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ " .
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: انہوں نے حج کے موقع پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر سنا۔ انہوں نے ایک سپاہی کے ہاتھ سے بالوں کا گچھا لیا اور بولے: اے اہل مدینہ تمہارے عالم کہاں ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی مثل (کو استعمال کرنے) سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل اس وقت ہلاکت کا شکار ہوئے تھے جب ان کی خواتین نے اسے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5512
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (100): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5488»