کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس بیان کا کہ قزع کے برعکس دونوں عمل یعنی پورا سر منڈوانا یا پورا چھوڑ دینا مباح ہیں۔
حدیث نمبر: 5508
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ ، وَتُرِكَ بَعْضُهُ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " احْلِقُوهُ كُلَّهُ ، أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا جس کے کچھ بال مونڈ دیئے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دیئے گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: تو اس کے پورے سر کو مونڈ دو یا پورے سر کو رہنے دو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5508
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1123): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5484»