کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس زجر کا کہ بچوں اور مردوں کے سروں میں قزع (کچھ بال منڈوانا اور کچھ چھوڑ دینا) نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 5506
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ " ، فَقُلْتُ : وَمَا الْقَزَعُ ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : إِذَا حَلَقَ الصَّبِيُّ ، وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعْرًا وَهَهُنَا شَعْرًا ، فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ ، وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ ، فَقِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ : الْجَارِيَةُ وَالْغُلامُ ، فَقَالَ : لا أَدْرِي ، هَكَذَا قَالَ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قزع سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا قزع سے مراد کیا ہے تو عبیداللہ نامی راوی نے بتایا: جب بچے کا سر مونڈ دیا جائے تو یہاں کچھ بال رہنے دیئے جائیں یہاں کچھ بال رہنے دیئے جائیں۔ عبیداللہ نامی راوی نے اپنی پیشانی اور سر کے ایک طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی۔ عبیداللہ سے دریافت کیا اس بارے میں لڑکی اور لڑکے دونوں کا حکم برابر ہے۔ انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔ انہوں نے (یعنی میرے استاد نے) یہ روایت اسی طرح بیان کی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5506
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق، وليس عند م (6/ 64 - 65) تفسير القزع إلاَّ مختصراً كالذي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5482»