کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - باب اس وعید کا کہ مرد سونے کی انگوٹھی نہ پہنے کیونکہ دنیا میں اس کا پہننا عورتوں کے لیے ہے، مردوں کے لیے نہیں۔
حدیث نمبر: 5489
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَجُلاً قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَحَدَّثَهَا ، فَقَالَتْ : إِنَّ لَكَ شَأْنًا ، فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَلْقِ الْخَاتَمَ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أَذِنَ لَهُ ، وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْرَضْتَ عَنِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ جِئْتَنِيَ وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ ، وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا ، إِلا مَا أَغْنَتْ عَنَّا حِجَارَةُ الْحَرَّةِ ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ ، لا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَذَرَهُ ، وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نجران سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ آپ نے اس شخص سے کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ شخص اپنی بیوی کے پاس واپس گیا۔ اسے اس بارے میں بتایا تو اس نے کہا: تمہارے ساتھ ضرور کوئی معاملہ ہے۔ تم واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ۔ انگوٹھی اتار دو جب اس شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب بھی دیا۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! پہلے آپ نے مجھ سے کیوں منہ پھیر لیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میرے پاس آئے تھے تو تمہارے ہاتھ میں آگ کا انگارہ تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پھر تو میں بہت سے انگارے لے کر آیا ہوں۔ وہ شخص بحرین سے کئی زیورات لے کر آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم کوئی ایسی چیز نہیں لے کر آئے جس کے بغیر ہمارا گزارا نہ ہو سکتا ہو تاہم یہ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے۔ اس شخص نے عرض کی: آپ میری معذرت قبول کریں۔ آپ کے اصحاب یہ نہ سمجھیں کہ آپ کسی حوالے سے مجھ پر ناراض ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ نے اس کی معذرت قبول کرنے کا اعلان کیا اور یہ بات بتائی کہ آپ کی ناراضگی صرف اس کی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5489
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «تيسير الانتفاع» / أبو النجيب. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5465»