کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - باب اس حکم کا کہ بالوں کی دیکھ بھال کرنے والے کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور کپڑوں کو صاف رکھنا چاہیے کیونکہ صفائی دین کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 5483
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا ، فَرَأَى رَجُلاً شَعْثًا ، فَقَالَ : " أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ ، وَرَأَى رَجُلاً عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ ، فَقَالَ : أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَا يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ہم سے ملنے کے لئے آئے آپ نے ایک شخص کو بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ دیکھا تو آپ نے دریافت کیا: کیا یہ کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کے ذریعے یہ اپنے بالوں کو سنوارے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا یہ کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کے ذریعے اپنے کپڑوں کو دھو لے۔