کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس باب میں بیان ہے کہ اس حکم کی علت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5476
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَجُوسُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ يُوفُونَ سِبَالَهُمْ ، وَيَحْلِقُونَ لِحَاهُمْ ، فَخَالِفُوهُمْ " ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجُزُّ سِبَالَهُ ، كَمَا تُجَزُّ الشَّاةُ أَوِ الْبَعِيرُ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجوسیوں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: وہ لوگ مونچھیں بڑی رکھتے ہیں اور داڑھیاں منڈوا دیتے ہیں، تو تم لوگ ان کے برخلاف کرو۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی مونچھیں یوں صاف کروا دیتے تھے جس طرح بکری یا اونٹ کے بال صاف کئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزينة والتطييب / حدیث: 5476
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2834). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5452»