کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ بعض ناپختہ علماء نے زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں وہم کیا۔
حدیث نمبر: 5449
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي ، فَقَالَ : " هَاهُنَا مَوْضِعُ الإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، فَهَهُنَا ، وَلا حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيرٍ ، وَالأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ ، إِلا أَنَّ خَبَرَ الأَغَرِّ أَغْرَبُ ، وَخَبَرَ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ أَشْهُرُ .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کو درمیان سے پکڑا اور ارشاد فرمایا: یہ جگہ تہبند کے لئے ہے اگر تم نہیں مانتے تو یہ ہے تاہم ٹخنوں میں تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابواسحاق نے یہ روایت مسلم بن نذیر اور اغر ابومسلم سے سنی ہے تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں البتہ اغر کی نقل کردہ روایت زیادہ غریب ہے اور مسلم بن نذیر کی نقل کردہ روایت زیادہ مشہور ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابواسحاق نے یہ روایت مسلم بن نذیر اور اغر ابومسلم سے سنی ہے تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں البتہ اغر کی نقل کردہ روایت زیادہ غریب ہے اور مسلم بن نذیر کی نقل کردہ روایت زیادہ مشہور ہے۔
حدیث نمبر: 5450
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الإِزَارُ ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِزَارِ ، فَقَالَ : أَجَلْ بِعِلْمٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، لا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَفِي النَّارِ ، مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
علی بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: تہبند کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: آپ مجھے تہبند کے بارے میں بتائیں انہوں نے فرمایا: جی ہاں علم کی بات (میں تمہیں بتاتا ہوں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے نصف پنڈلی سے لے کر ٹخنوں کے درمیان جہاں بھی ہو اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا، لیکن جو اس سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہو گا اور جو شخص اپنے تہبند کو تکبر کے طور پر لٹکائے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔ “