کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ مسلمان کے لیے ازار کہاں تک ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5445
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي ، فَقَالَ : " هُنَا مَوْضِعُ الإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، فَهَهُنَا ، وَلا حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ " .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کو درمیان سے پکڑ کر ارشاد فرمایا: یہ جگہ تہبند کے لئے ہے اگر تم نہیں مانتے تو یہاں تک، لیکن ٹخنوں میں تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5446
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقُلْتُ : أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الإِزَارِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، لا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَفِي النَّارِ ، لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
علی بن عبدالرحمٰن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہبند کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: انہوں نے جواب دیا: جی ہاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے۔ نصف پنڈلی سے لے کر ٹخنوں تک کے درمیان میں جہاں بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن جو اس سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں ہو گا اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا جو تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکائے گا۔