کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس باب میں بیان ہے کہ ازار نیچے لٹکانے کی ممانعت کی علت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5442
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو الْمُطَرِّفِ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سُهَيْلٍ ، فَقَالَ : " يَا سُفْيَانُ ، لا تُسْبِلْ إِزَارَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إِلَى الْمُسْبِلِينَ " .
سیدنا مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سیدنا سفیان بن ابوسہیل رضی اللہ عنہ کے پہلو کو پکڑ کر ارشاد فرمایا: اے سفیان! اپنے تہبند کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والوں کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔