کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ انسان کے لیے مستحب ہے کہ اللہ کی نعمت کا اثر اس پر نظر آئے، خواہ وہ نعمت ظاہراً تھوڑی ہو۔
حدیث نمبر: 5418
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ جَابِرٌ : فَقُمْتُ إِلَى غِرَارَةٍ لَنَا ، فَالْتَمَسْتُ فِيهَا ، فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّاءٍ ، فَكَسَرْتُهُ ، ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ جَابِرٌ : وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ لِيَذْهَبَ يَرْعَى ظَهَرْنَا ، قَالَ : فَجَهَّزْتُهُ ، ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلُقَا ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا ، قَالَ : فَادْعُهُ ، فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ ، فَلَبِسَهُمَا ، ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ ، أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا ؟ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : هَكَذَا كَانَتْ نِيَّةُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبِدَايَةِ ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ؛ لأَنَّ جَابِرًا مَاتَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ ، وَمَاتَ أَسْلَمُ مَوْلَى عُمَرَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ سَنَةَ بِضْعٍ وَخَمْسِينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَكَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِذْ ذَاكَ ، فَهَذَا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا وَهُوَ كَبِيرٌ ، وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاثِينَ وَمِئَةَ ، وَقَدْ عُمِّرَ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ انمار کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! سائے کی طرف آ جائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (سواری سے) نیچے اتر آئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اٹھ کر اپنے توشہ دان کی طرف آیا میں نے اس میں تلاش کیا تو مجھے اس میں ککڑی ملی۔ میں نے اسے توڑا اور پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ تمہیں کہاں سے ملی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم اسے ساتھ لے کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارا ایک ساتھی تھا جسے ہم سامان تیار کر کے دے دیتے تھے اور وہ ہمارے سواری کے جانوروں کو چرنے کے لئے لے جایا کرتا تھا؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس کا سامان تیار کیا پھر وہ اس کو اپنی پشت پر لاد کر چل پڑا۔ اس کے جسم پر دو چادریں تھیں جو پرانی ہو چکی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو دریافت کیا اس کے پاس ان دو چادروں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس کے پاس سامان میں دو اور کپڑے ہیں جو میں نے اسے پہننے کے لئے دیئے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بلاؤ اور اسے یہ ہدایت کرو کہ وہ ان کپڑوں کو پہن لے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے بلایا اس نے وہ دو کپڑے بہن لئے، پھر وہ جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی گردن پر مارے کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ اس شخص نے یہ بات سن لی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کی راہ میں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کی راہ میں پھر وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغاز میں یہی نیت تھی۔ زید بن اسلم نے سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے احادیث کا سماع کیا ہے کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا انتقال 79 ہجری میں ہوا تھا اور اسلم کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں 50 ہجری کے آس پاس ہوا تھا۔ مروان بن حکم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی تھی جو اس وقت مدینہ منورہ کا گورنر تھا تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی۔ انہوں نے سیدنا جابر سے احادیث کا سماع کیا ہے وہ بڑی عمر کے آدمی تھے جب کہ زید بن اسلم کا انتقال 136 ہجری میں ہوا۔ ان کی عمر کافی زیادہ تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغاز میں یہی نیت تھی۔ زید بن اسلم نے سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے احادیث کا سماع کیا ہے کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا انتقال 79 ہجری میں ہوا تھا اور اسلم کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں 50 ہجری کے آس پاس ہوا تھا۔ مروان بن حکم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی تھی جو اس وقت مدینہ منورہ کا گورنر تھا تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی۔ انہوں نے سیدنا جابر سے احادیث کا سماع کیا ہے وہ بڑی عمر کے آدمی تھے جب کہ زید بن اسلم کا انتقال 136 ہجری میں ہوا۔ ان کی عمر کافی زیادہ تھی۔